2. اگست 2018

امتیازی سلوک اور تعصب سے کیسے نمٹا جاۓ؟

بریمن میں LGBTIQ+ پناہ گزینوں کے سرگرم کارکنوں کے تیسرے قومی حلفے کا اجلاس
تیسری دفعہ، پورے جرمنی سے پناہ گزین LGBTIQ+ کارکنوں نے اپنے حلقے کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے ملاقات کی۔ اس دفعہ کا اجلاس بریمن میں Rat und Tat e.V. کے تعاون سے ایک ورکشاپ کی شکل میں ہوا۔

جرمنی میں LGBTIQ+ پناہ گزینوں کی طرف سے تیسری ورکشاپ کا مضمون ہر روز کا امتیازی سلوک اور تعصب تھا جس کا LGBTIQ+ پناہ گزینوں کو جرمنی میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تعصب سے نمٹنا ہر LGBTIQ+ شخص کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو اپنے جنسی رجحان اور صنفی شناخت کی وجہ سے جرمنی منتقل ہوئے ہیں ۔ ورکشاپ کا مقصد ایسے اداروں اور ایجنسیوں کی شناخت  کرنا  تھا جو جرمنی میں لوگوں  کو مدد پیش کرتے ہیں جن کے ساتھ  کام کی جگہ میں اور گھر پر امتیازی سلوک  روا رکھا جاتا ہے  یا  انہیں  روزمرہ کی زندگی میں اپنے جنسی رجحان اور صنفی شناخت کی وجہ سے  تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ پندرہ شرکاء اس ورکشاپ میں شرکت کرنے کے لیے نو صوبوں اوردس ممالک سے آئے تھے. شرکاء نے اپنے وفاقی ریاستوں میں مختلف تنظیموں کی شناخت کی ، جن میں ان LGBTIQ+ پناہ گزینوں کو مدد پیش کی جاتی ہے جن کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاۓ یا تعصب کا نشانہ بنایا جاۓ۔  پولیس کے کردار اور کام کے بارے میں بھی بحث ہوئی۔ اس ورکشاپ میں اٹھائے جانے والے اہم موضوعات میں سے ایک موضوع  AnKer سینٹروں میں LGBTIQ+  پناہ گزینوں کی حفاظت تھی۔  حکومت کس طرح AnKer مراکز میں  LGBTIQ+ پناہ گزینوں پر دیگر پناہ گزینوں کی  طرف سے حملے کو روک سکتی ہے؟